Adhi Raat Ka Sooraj

Rs. 800

SKU AKS-2512 Category Tag


Share
Description

آدھی رات کا سورج
“سپین میں مسلمانوں کا عروج و زوال اور اس کے یورپی تہذیب پراثرات”
یہ ایک ایسا ساگا ہے جس میں کسی سنسنی خیز ناول کی طرح ڈرامائی واقعات بھی ہیں ،رونگٹے کھڑے کر دینے والے ایڈوینچر بھی ،دل خوش کن رومان بھی اور ولولہ انگیز معرکے بھی۔لیکن سب سے بڑھ کر یہ ایک ٹریجڈی ہے جسے پڑھ کر آنکھیں نم ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔
لیکن اس تمام تر ٹریجڈی کا ایک مثبت پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ اسی کی کوکھ سے وہ اکھوا پھوٹا جو آگے چل کر مغرب میں نشاۃ ثانیہ کے شجرِثمردار کی صورت میں نمودار ہوا جو آج تک پھل دے رہا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ سنہ 500ءسے لے کر 1300ء تک پر گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا ،لیکن بہت سے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس دوران یورپ ہی کہ ایک گوشے میں وہ شمع روشن تھی جس کی کرنوں دور دور تک پھیل رہی تھیں ۔ایسی اکثر چیزیں جنھوں نے یورپ کو یورپ بنایا،وہ اندلس سے گزر کر بقیہ یورپ میں پہنچیں ۔ ان میں نہ صرف فلسفہ ریاضی ،فلکیات،طب، جغرافیہ ،شامل ہیں ، بلکہ یورپی فن تعمیر ،ادب اور شاعری پر بھی اندلس نے ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔اس کی تفصیل تو کتاب میں موجود ہے،یہاںصرف قافیے کی مثال دینا چاہوں گاکہ سنہ 1000ءسے پہلے یورپ کی کسی زبان کی شاعری میں قافیہ نہیں تھا۔نہ ہومر کے رزمیوں میں ،نہ سیفو کے گیتوں میں،اور نہ ہی ورجل کی نظموںمیں ۔یورپی شاعری میں قافیے کا چلن عربی کے زیر اثر براستہ اندلس شروع ہوا۔
اس زمانے میں شاعری سازوں کی سنگت میں گائی جاتی تھی، خاص طور پر ایک ساز پر جسے مغربی موسیقی کا نمائندہ ساز کہا جا سکتا ہے یعنی گٹار۔لیکن اندلس تاریخ کے منقش جھروکوں سے جھانک کر دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ یہ گٹار دراصل عرب عود کی ذرابدالی ہوئی شکل ہے۔اسی لیےماہرین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اندلس کے بغیر آج کے مغرب کا تصور ناممکن ہے۔
اس کتاب میں اسی اندلس کی بازیافت کی کوشش کی گئی ہے

Reviews

There are no reviews yet.

Only logged in customers who have purchased this product may leave a review.