Amarat Sar Aa Gaya
- Author: Bhaisham Sahani
- Publisher: AKS Publications
- Format: Hardback
- Language: Urdu
Description
مرتسر آگیا ہے
محمد حمید شاہد
۔۔۔۔۔۔۔۔
بھیشم ساہنی اور بلراج ساہنی کو گنوں سے بھرے ہوئے ”پنڈی بوائز“ کہہ لیجیے کہ دونوں تقسیم سے بہت پہلے بھیرہ سے راولپنڈی آکر چھاچھی محلے میں بس جانے والے شری ہربنس لال ساہنی کے گھر پیدا ہوئے اور کالج روڈ سے متصل عالم روڈ پر واقع دو منزلہ مکان میں پلے بڑھے تھے۔ تقسیم کا زمانہ آیا تو انہیں اپنے اس گھر سے نکلنا پڑا جس میں کبھی گاندھی جی بھی آئے تھے کہ پاکستانبن گیا تو پنڈی ان کے لیے پرایا ہو گیا تھا۔ انہیں گاندھی کے ہندوستان جانا پڑا تھا مگر دونوں مڑ مڑ کر پیچھے دیکھتے رہے۔ بھائیوں کی اس جوڑی کے بخت بلند تھے۔ بلراج نے بالی وڈ میں ایک ہیرو کے طور پر نام کمایا اور بھیشم ادب کی دنیا کا روشن ستارہ ہوا۔ مڑمڑ کر دیکھنے کا احوال یہ ہے کہ بھیشم کے ناول ”تمس“ میں اسی شہر کی گلیاں ہیں اور کہانی تقسیم سے ذرا پہلے اس سچے واقعے کو بنیاد بناتی ہے جس کے مطابق راجہ بازار کی جامع مسجد کے سامنے کسی نے سور پھینک دیا تھا اور شہر میں فساد پھوٹ پڑے تھے۔ اس ناول ہی میں نہیں، ان کی دیگر تخلیقات میں بھی تقسیم اور ہجرت تک کا زمانہ اور منظر نامہ پوری طرح ظہور کرتا رہتا ہے کہ یہ گزرا ہوا وقت بھیشم کے تخلیقی حافظے میں ہمیشہ مقیم رہا ہے۔ ”امرتسر آ گیا ہے“ میں بھیشم ساہنی کے بتیس منتخب ہندی افسانوں کو انعام ندیم نے ترجمہ کر کے اردو دنیا کو فراہم کر دیا ہے۔ بھیشم کو بجا طور ہندی افسانے کے نمایاں ترین ناموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سماجی، سیاسی اور ثقافتی زندگی کی ایک ایک جنبش کو اس خوبی سے اپنے متن میں ڈھالا ہے کہ پڑھتے ہوئے ہر منظر اور ایک ایک واقعہ قاری کے حسیاتی کینوس پر تصویر ہونے لگتا ہے۔ بھیشم کا ناول ”تمس“ اور ان کے ایک دو افسانوں کے تراجم میری نظر سے گزر چکے ہیں، تاہم یہ پہلی بار ہو گا کہ ہم ان کے افسانے ایک مجموعے کی صورت پڑھیں گے۔ انعام ندیم کے شعر کے تو ہم تب سے قائل تھے جب آصف فرخی نے ان کا مجموعہ ہمیں عطا کیا تھا۔ ربیسنکر بال کے ناول ”دوزخ نامہ“ کے ترجمے کے بعد اُن کی نثر کا بھی قائل ہونا پڑا کہ متن کو انگریزی سے اردو میں ڈھالتے ہوئے وہ کچھ ایسا کرشمہ دکھاتے ہیں کہ تخلیق نو کا سماں بندھ جاتا ہے اور کہیں بھی گماں نہیں گزرتا کہ آپ ترجمہ پڑھ رہے ہیں۔ لطف یہ کہ ایسے میں وہ اصل متن سے پچھڑتے بھی نہیں ہیں۔ ایسا ہی کچھ ”امرتسر آ گیا ہے“ میں ہوا ہے۔ یقین نہیں آتا تو پڑھ کر دیکھ لیجئے۔ مجھے یقین ہے آپ میری طرح بھیشم ساہنی کے افسانوں کا لطف اٹھاتے ہوئے انعام ندیم کی اس خوبی کے قائل بھی ہو جائیں گے
Only logged in customers who have purchased this product may leave a review.
Related Products








Reviews
There are no reviews yet.