Description
ہ ناول نہیں بلکہ ایک یمنی لڑکی نجود علی کی لرزہ خیز آپ بیتی ہے جس کی شادی 2008 میں اس کے باپ نے چند روپوں کے عوض جبراً اس وقت کردی جب اس کی عمر صرف دس سال کی تھی، اور ستم بالائے ستم یہ کہ اس دس سالہ بچی کے شوہر کی عمر تیس سال تھی ۔ کئی دن اور کئی رات نجود علی جسمانی اور ذہنی اذیت کی شکار رہی۔ اس کی مدد کو کوئی نہ آیا، حتیٰ کہ والدین اور معاشرہ بھی، کہ یہ وہاں عام بات تھی۔ بالآخر جب برداشت جواب دے گئی تو وہ ایک روز گھر سے فرار ہو کر عدالت پہنچ گئی اور بھری عدالت میں چیخ چیخ کرکہنے لگی ‘کوئی مدد کرو میری، کوئی مدد کرو۔’ اس ایک دس سالہ بچی کی چیخ نہ صرف عدالت نے سنی بلکہ پوری دنیا نے اس پر لبیک کہا۔ نجود علی کو انصاف مل گیا لیکن یک لخت نہیں، بلکہ اس طویل جدوجہد میں اس نے کیا کچھ کھویا، کیا کچھ گنوایا، اور کیا انصاف ملنے کے بعد اس کا استحصال تھم گیا یا اس کی نوعیت بدل گئی؟ سب کچھ نجود علی ہم سے شیئر کررہی ہیں۔
نجود علی کو معروف امریکی میگزین ‘گلیمر’ نے نیویارک کے کارنیگی ہال میں ‘گلیمر وومن آف دی ائیر ایوارڈ’ سے نوازا جہاں اس کی ملاقات سکریٹری آف دی اسٹیٹ آف امریکہ ہلیری کلنٹن سے ہوئی۔ ہلیری اس سے اتنی متاثر ہوئی کہ جب وہ 2011 میں یمن کے دورے پر گئیں تو ان سے سب سے پہلے ملاقات کرنے والوں میں نجود علی شامل تھی۔
Only logged in customers who have purchased this product may leave a review.
Related Products








Reviews
There are no reviews yet.