Description
ہذیبیں اپنے آپ کو اس فرد کی تعمیر میں صرف کردیتی ہیں جس کی شخصیت لفظ سے زیادہ قوت اظہار رکھتی ہو اور خیال سے زیادہ بامعنی ہو۔ ہمارے سلیم بھائی ایسی ہی ایک شخصیت تھے۔ اظہار کے پھیلاؤ سے زیادہ وسیع ،ادراک کی گہرائی سے زیادہ عمیق۔ ان کے قرب کا ایک سچا لمحہ بھی اگر کسی کی میسر آیا ہو تو وہ گویا ایمانی جذبہ کے ساتھ یہ گواہی دے سکتا ہے کہ سلیم احمد اپنی شخصیت میں اپنے قابل فخر کاموں سے زیادہ مکمل تھے۔ دنیا کا کونسا ایسا موضوع ہے جس پر انہوں نے نہیں لکھا ذہن کا کونسا ایسا گوشہ ہے جیسے ان کے شعلہ اظہار نے روشن نہیں کیا لیکن ایسی جامعیت کے باوجود ان کی شخصیت کی گہرائیاں جیسے غیبی گہرائیاں تھیں جن میں ان کی تنقید اور شاعری وغیرہ محض چند اجزائے کمال کی طرح سمائی ہوئی تھیں۔سلیم احمد کو عام شاعروں اور نقادوں کی طرح صرف ان کی تحریروں سے سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ وہ پڑھنے سے نہیں دیکھنے سےسمجھ میں آتے تھے۔ ان کی شخصیت کا تخلیقی وفور اتنا زیادہ تھا کہ ذہن کو لفظ کی محتاجی سے نکال کر سیراب کر دیتا تھا۔ ذہن تو پھر بھی ایک مصنوعی چیز ہے وہ آنکھوں کو عارف بنادیتے تھے۔
میرے محسنوں کی فہرست لمبی ہے لیکن ان میں بھی چند ہی لوگ ہیں جن کی احسان مندی کا احساس میرے قلب میں ایک قیمتی حال کی طرح محفوظ رہتا ہے۔ سلیم بھائی پر یہ کتاب لکھ کر خواجہ رضی حیدر صاحب میرے ایسے ہی محسنوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ زندگی میں ایک خلا سا تھا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اپنے ہونے کا احساس مکمل نہیں ہو پا رہا تھا اس کتاب نے اس خلا کو بھر دیا اور اس احساس کو پورا کردیا۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں سلیم بھائی کی شخصیت کو موضوع بنایا گیا ہےاور اس طرح پڑھنے والوں کو گویا زندگی کی اعلی سطحوں پر فطرت کی مصّفابلندیوں سے گزرنے کا تجربہ فراہم کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں سلیم احمد اتنی شدت اور تاثیر کے ساتھ ظاہر ہوگئے ہیں کہ سنجیدگی سے پڑھنے والوں کو یہ احساس اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے خود ہمارے اندر بھی بیداری کا وہ بیج کاشت ہوگیا ہے جو زندگی کے ایک سچے خرمن سے لیا گیا ہے۔ خواجہ صاحب نے سلیم احمد کی رونمائی کے لیے ایسا آئینہ بنایا ہے جو ہمیں بھی اپنے اوپر ظاہر کر سکتا ہے۔ یہی وہ کام ہے جو سلیم بھائی جب تک جیے کرتے رہے۔
Only logged in customers who have purchased this product may leave a review.
Related Products








Reviews
There are no reviews yet.