Description
خواجہ عبدالرسول جنیدسجادہ نشین،آستانہ قادریہ میاں چنوں،سربراہ ادارہ ”دارالحکمت والاحسان“ کی زیرِ نظر کتاب ”بزمِ عارفاں“ جس میں ان مشاہیر اور بزرگان و مشائخ کا تذکرہ ہے جنھوں نے اپنے قول و فعل سے محبت و فلاح کا درس دیا اور جن نفوس قدسیہ کی وجہ سے لاکھوں لوگوں نے اپنا فکری و نظریاتی قبلہ درست کیا اور ان حضرات نے جس مستقل مزاجی سے لوگوں کو جامِ مودت پلایا اس کے واضح اثرات آج بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں اور اس کی اہم بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسے اصحابِ فکر و نظر کا مطمح نظر عشق و محبت ہوتے ہیں اور ان کے دلوں مین سوائے شمع محبت کے اور کوئی دوسری چیز نہیں ہوتی۔
اور اگر ہم اس کائنات پر غور کریں تو اس کی بنیاد ہی محبت و چاہت پر ہے جیسا کہ حدیث قدسی کا حوالہ سطورِ بالا میں پیش کیا گیا ہے اور کسی عارف نے کیا ہی خوب کہا تھا کہ
خواجہ عبدالرسول جنید کا اپنا اور ان کے اجداد کاروحانی سلسلہ خانقاہِ قادریہ فاضلیہ بٹالہ شریف سے ہے تو انھوں نے اس کتاب میں ان بزرگوں کے ساتھ ساتھ اپنے بزرگوں کا بھی تعارف لکھا ہے۔مجموعی طور پر کتاب غیر ضروری اور لاطائل کشف و کرامات سے مبرا ہے،مختصر پیرایوں میں بہت عمدہ،دل نشین اور سود مند واقعات ونکات بیان کیے گئے ہیں۔تذکرے کا اسلوب بہت سادہ مگر بڑا پر وقار اور شائستہ ترین ہے۔ابواب بندی کا بڑی مہارت سے اہتمام کیا گیا ہے اور طرزِ تحریر ایسا ہے کہ پڑھنے والا چاہتا ہے کہ اسے ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالوں۔اس کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں تصوف کے حوالے سے بھی بعض اہم اصول و مبادیات پر بات کی گئی ہے ۔آج کے اس ”اصل مسئلہ معاشی“ ہے کے دور میں کتاب کی اشاعت کا اہتمام بھی انتہائی عمدگی و چاہت سے کیا گیا ہے۔کاغذ،جلد اور بائنڈنگ ، خواجہ عبدالرسول جنید کی نفاست اور ذوق کا آئینہ دارہیں۔جس طرح کتاب میں خوب صورت شخصیات کا تذکرہ ہے بالکل اسی طرح کتاب کا نام بھی بڑا شان دار ہے اور کتاب کے نام کے حوالے سے ہیچ مدان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ میرے ہی چنے ہوئے نام کو خواجہ صاحب نے شرفِ پزیرائی بخشا جو میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔لاہور کے معروف اشاعتی ادارے کتاب محل سے یہ تذکرہ منظرِ عام پر آیا ہے اور وہاں سے بہ آسانی دست یاب ہے۔
سید صبغت اللہ سہروردی
Only logged in customers who have purchased this product may leave a review.
Related Products








Reviews
There are no reviews yet.