Galiyare

Rs. 1,500

SKU AKS-2644 Category Tag


Share
Description

کشن اور سوانح کے درمیان حد فاصل قائم کرنا مشکل ہے۔ بہت سا فکشن خود سوانح کی بدلی ہوئی شکل ہے اور بہت سا خود سوانح میں فکشن کی آڑی ترچھی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ ماضی کو یاد کرنا یا یاد رکھنا تو مشکل نہیں لیکن ٹھیک ٹھیک یاد رکھنا خاصا دشوار ثابت ہو سکتا ہے، خصوصا اس صورت میں جب ہم کسی داخلی یا خارجی دباؤ کے تحت اسے ٹھیک طرح یاد نہ رکھنا چاہتے ہوں۔ گویا خود سوانح پر زیادہ اعتبار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ تقاضا ہی کیوں کیا جائے کہ وہ لفط بہ لفط واقعہ بہ واقعہ درست ہو؟ ہر انفرادی ماضی، مرد کا یا عورت کا ، بڑی حد تک نجی چیز ہے، ایک طرح کا خواب جسے کوئی اور نہیں دیکھ سکتا، جس میں کوئی اور شریک نہیں ہو سکتا۔

اگر کوئی قاری اس کتاب کو فکشن ماننے پر مصر ہو تو اسے یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ اردو میں فکشن اتنے سلیقے اور کفایت سے روز روز نہیں لکھا جاتا۔ انداز بیان میں خود نمائی ہےنہ لفاظی، سجاوٹ ہے نہ بناوٹ، رقت آمیزی ہے نہ خود ترسی۔ خود اپنے آپ میں کھوئی سیدھی سادی شفاف سی نثر جسے کسی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی اس لڑکی کا بچپن ہم میں سے بہت سوں کا بچپن ہو سکتا ہے۔ گھر کے اندر اور گھر سے باہر کی یہ یادیں بنتے بگڑتے یا پختہ ہوتے انسانی رشتوں کی روداد ہے۔ دنیا اور دنیا والوں کو جاننے پہچاننے کے کتنے مرحلوں سے گزرنے والی لڑکی حیرت زدگی کے عالم میں ہے اور یہ حیرت کبھی کبھی دہشت زدگی میں بدل جاتی ہے۔ صرف بچپن ہی میں ہم صحیح معنی میں اپنے گرد و پیش سے حیرت زدہ یا دہشت زدہ ہو سکتے ہیں۔ کہانی کہنے والی کو بس ادھورا سا شعور ہے کہ جو سمجھ نہیں آتا یا آسکتا وہ ان باتوں پر حاوی ہے جو سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ ان معاشروں مین جہاں مردوں کی بالادستی قائم ہو۔ عورتوں کو بچپن سے بڑھاپے تک، یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ کوئی ٹھکانہ، کوئی فیصلہ، جینے کا کوئی انداز ان کا اپنا نہیں۔ ان کی زندگیاں ان مسلط کیے ہوئے فیصلوں سے الجھتے ہوئے گزرتی ہیں۔ یہ کشمکش اس آپ بیتی میں پہلے ورق سے موجود ہے۔ عذرا عباس نے کسی چالاکی یا ہاتھ کی صفائی کے بغیر سب کچھ بچی یا لڑکی نظر سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ محرکات تلاش کرنے یا تجزیہ بازی کے چکر میں نہیں پڑی۔ یہی وجہ ہے کہ بیانیہ قربت کے احساس سے لبالب ہے جیسے سب کرداروں اور واقعوں کو ابھی ابھی دیکھا ہو۔ اس چھوٹی سی کتاب میں کردار ہیں بھی جاندار۔ کون ہے جو داد ابا، چاندی کی بالیاں بیچنے والے، چوہیا والی عورت، شمو کی اماں، پاگل عورت اور رسگو کو آسانی سے بھلا سکے۔ بیانیے کی بے ساختگی میں کھلا پن بلکہ کھلا ڈلا پن ہے مگر کوئی بات محض چونکانے کے لئے، چٹخارے کی خاطر نہیں ہے۔

Reviews

There are no reviews yet.

Only logged in customers who have purchased this product may leave a review.