Palota

Rs. 500

SKU AKS-2544 Category Tag


Share
Description

دھرتی پر جب پہلا خون بہا تو زمین نے گریز پائی کی نصیحت کرتے ہوئے انسان کو متنبہ کیا ،خبردار کیا, ڈرایا دھمکایا اور ہوش دلایا لیکن حضرت انسان نے کان نہ دھرا بلکہ اس کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور وہ اپنی ہوس اقتدار و اختیار اور اپنی خود ساختہ جھوٹی جاہ و حشمت کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو تہس نہس کرتا ، ہر ذی روح کو تہ تیغ کرتا، دھرتی کے سینے کو لال کرتا درحقیقت اپنی ہی بقا کو تہس نہس اور تہ تیغ کرتا چلا گیا .
زمین ہر بار ہوش دلانے کی سعی کرتی رہی لیکن وہ اتنا ہی ہوش و خرد سے بیگانہ ہوکر دیوانہ وار آج اس مقام پر آ پہنچا ہے جہاں تباہی و بربادی اس کی انگلی کے اشارے پر ہے اور زمین کی سیخ پائی اپنے بام عروج پر . اگر آہ و بددعا فضاء چیرتی ہوئی فرش سے عرش تک جا لپکتی ہے تو …. تو……. تو کیا ہوگا؟
اور بس اتنا ہی کہنا ہے کہ یہ ناول سرائیکی زبان کے اس ناول نگار کی کاوش ہے جس کے پہلے ناول ” گھان ” (گرداب بھنور) کی اشاعت پر سرائیکی کے معروف شاعر اور دانش ور جناب رفعت عباس نے رائے زنی کرتے ہوئے قرار دیا تھا : “سرائیکی زبان کو اپنا ناول مل گیا ” کیونکہ سرائیکی ناول کا یکسر رخ تبدیل کرنے کا سہرا سلیم شہزاد کے سر پر ہے.
اس ناول کا ترجمہ معروف مترجم جناب نجم الدین احمد نے کیا ہے جن کے تراجم اپنی سند تسلیم کرواچکے ہیں

Reviews

There are no reviews yet.

Only logged in customers who have purchased this product may leave a review.